اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اردنی مبصر ناہض حتر نے عربی چینل العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امریکی منصوبوں پر عملدرآمد کرنے اور کرانے کے حوالے سے آل سعود کا خاندان ہی امریکہ کا حقیقی نمائندہ ہے جو وہابیت کے جامد عقائد کو بروئے کار لاکر اوربلادالحرمین کے معاشرتی طرز فکر کو مد نظر رکھ کر، اس مقدس سرزمین کو دہشت گرد پالنے کے لئے مناسب تربیت گاہ میں تبدیل کرچکا ہے۔
انھوں نے کہا: امریکہ 2003 میں عراق پر قبضہ جمانے کے بعد ویتنام جیسی دلدل میں پھنس گیا؛ یہ ایک وسیع اور خطرات سے بھرپور دلدل تھی چنانچہ اس نے اپنی حکمت عملی بدل ڈالی اور فیصلہ کیا کہ علاقے میں اپنی ان جنگوں کو اپنے کٹھ پتلیوں کے سپرد کردے جو اس کو لڑنی تھیں! اور آج اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ کے دہشت گرد 2006 اور 2007 کے دوران شمالی عراق میں امریکیوں اور سعودیوں کے منصوبے کے تحت اکٹھے کئے گئے تھے تا کہ وہ عراق میں قابض افواج کے خلاف عوامی مزاحمت کو عراق کے اندر خانہ جنگی میں تبدیل کریں۔
حتر نے کہا: القاعدہ کے ساتھ یمن میں بھی ایک معاہدہ کیا گیا اور القاعدہ کے دہشت گرد، یمن مین بھی امریکہ اور سعودی عرب کی خفیہ ایجنسیوں کی اطلاع سے، طیاروں کے ذریعے ترکی منتقل کئے گئے اور ترکی سے شام میں داخل کئے گئے جس سے یہ حقیقت بھی طشت از بام ہوگئی کہ القاعدہ ایک آلۂکار ہے۔ اور عجب یہ کہ القاعدہ نے اپنی تشکیل کے ابتدائی لمحوں سے لے کر اب تک، ایک گولی بھی اسرائیل کی طرف نہیں چلائی ہے اور اس ٹولے کی پوری سوچ عراقی قوم اور شامی عوام اور حکومت کے خلاف لڑنے پر مرکوز ہے۔
انھوں نے علاقے کی صورت حال میں سعودی خفیہ اداروں کے سربراہ بندر بن سلطان کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بندر بن سلطان کو دمشق کی قومی سلامتی کی عمارت میں دھماکے کے بعد سعودی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ مقرر کئے گئے اور جب دمشق پر قبضے کا منصوبہ ناکام ہوا تو پلان "B" (یعنی بندر منصوبے) کو نئے پروگرام کی بنیاد بنایا گیا۔ بندر منصوبے کے تحت شام کی فوج القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد ٹولوں کے خلاف لڑ لڑ کر فرسودہ ہوجاتی۔
اس اردنی قلمکار نے کہا: سیاسی یا مذہبی رجحانات کی بنا پر لوگوں کے سر قلم کرنا، القاعدہ کی پالیسی کا حصہ ہے جبکہ لوگوں کی ناموس پر جنسی زیادتی کرنا، دیہی علاقوں کو گھیرے میں لینا اور عوام کو بھوک و افلاس سے دوچار کرنا اور اس کے بعد ان کے علاقوں کو مکمل طور پر ویران کرنا سب کے سب ایسے اقدامات ہیں جو القاعدہ کے طرز فکر سے مطابقت رکھتے ہیں۔
انھوں نے آخر میں کہا: جو منصوبہ شام کے لئے مرتب کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اس ملک کا معاشرتی اور شہری ڈھانچہ تباہ کیا جائے، تمام ادیان و مذاہب کے درمیان تاریخی پرامن بقائے باہمی کو تہس نہس کیا جائے کیونکہ وہابی، سلفی اور القاعدہ کے ممبران اس طرح کی پرامن بقائے باہمی کو اصولی طور پر تسلیم نہیں کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110